وفاقی حکومت نے چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے سپریم کورٹ میں ایک باضابطہ نظرثانی درخواست دائر کی ہے، جس میں عدالتِ عظمیٰ کے 18 اگست کے اس عبوری حکم کو واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے جس کے تحت بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے 12 مارچ 2026 کو بانی پی ٹی آئی کی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے تحت نجی اسپتال منتقلی کی استدعا مسترد کر دی تھی، جس کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں اپیل دائر ہوئی۔ درخواست میں نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ یہ معاملہ پہلی بار سپریم کورٹ کے روبرو آیا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کیے بغیر ہی عبوری حکم صادر کر دیا گیا، جو کہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی بھی قیدی کی جیل سے باہر منتقلی کے لیے حکومتی منظوری، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کا طریقہ کار اور سخت پولیس سیکیورٹی لازمی ہوتی ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جاتا رہا ہے اور میڈیکل بورڈز ان کا علاج کرتے رہے ہیں، لہٰذا آزاد طبی ماہرین کی حتمی رائے کے بغیر اسپتال منتقلی کا فیصلہ مناسب نہیں۔ حکومت نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ 18 اگست کے عبوری حکم نامے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔









