9

حکمران 27 ستمبر سے پہلے فیصلے کرلیں، حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں پر زور دیا ہے کہ 27 ستمبر سے پہلے ملک کو انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی کی طرف لے جانے کیلئے اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر ان کے بقول حالات کو سنبھالنا مشکل ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر دھرنے میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور ان کے خاندان کی موجودگی میں ذاتی معالجین کی زیر نگرانی علاج کی اجازت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا تھا، تاہم ان کے بقول آج عمران خان کو بنیادی انسانی حقوق اور انصاف سے محروم رکھا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی قید اور مقدمات سے متعلق بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر مقدمات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کرنے والوں کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

سہیل آفریدی نے ملک کے عدالتی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کا نظام اس وقت شدید آزمائش سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی جج انصاف کیلئے مؤقف اختیار کرتا ہے تو اس سے دیگر ججز کو بھی حوصلہ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام ججز سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں اور عدلیہ کو آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ نوجوانوں میں موجود بے چینی اور غصے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اگر ظلم اور ناانصافی کا سلسلہ جاری رہا اور نفرت میں اضافہ ہوا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

سہیل آفریدی نے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا کہ 27 ستمبر سے پہلے صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ملک میں انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔