آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے لیے اہم مرحلہ 10 اگست کو ہوگا، جہاں عام انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
پونچھ ڈویژن کے انتخابی نتائج نئی قانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ ابتدائی دو مراحل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو پاکستان پیپلزپارٹی کے مقابلے میں واضح برتری حاصل ہے۔
پونچھ ڈویژن میں چار اضلاع شامل ہیں، جہاں بڑی سیاسی جماعتوں سمیت مختلف جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔ ان نشستوں پر ہونے والا مقابلہ سیاسی منظرنامہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انتخابات کے آخری مرحلے میں 11 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 208 امیدوار مدِمقابل ہوں گے، جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 54 ہزار سے زائد ہے۔
پونچھ ڈویژن کے جن علاقوں میں انتخابی معرکہ ہوگا ان میں راولاکوٹ، باغ، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی شامل ہیں۔ باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں 82 امیدوار جبکہ راولاکوٹ، پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں 126 امیدوار قسمت آزمائیں گے۔
پونچھ ڈویژن کے حلقوں میں ایل اے-14 باغ 1، ایل اے-15 باغ 2، ایل اے-16 باغ 3، ایل اے-17 باغ و حویلی کہوٹہ جبکہ ایل اے-18 سے ایل اے-24 تک راولاکوٹ، پونچھ اور سدھنوتی کے حلقے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں ہونے والے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے 9 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کے دوسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 24 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل کر لی ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی پہلے مرحلے میں 4، دوسرے مرحلے میں 4 جبکہ مہاجرین کی نشستوں میں 2 کامیابیاں حاصل کر کے مجموعی طور پر 10 نشستیں حاصل کر چکی ہے۔
اب سب کی نظریں پونچھ ڈویژن کے نتائج پر مرکوز ہیں، جو آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حتمی نقشے کا تعین کریں گے۔









