22

نئے صوبوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کا اہم مؤقف سامنے آگیا

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صوبے بنانا کوئی آسان کام نہیں، اس حوالے سے ملک کی ساخت اور حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبے بنانا بری بات نہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ملک موجودہ حالات میں اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر ایسی بات نہیں کرسکتے، جبکہ بعض اوقات ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے نئے معاملات سامنے لائے جاتے ہیں۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو چاہیے کہ وہ جوائنٹ اپوزیشن کا اجلاس بلائیں اور ملکی صورتحال پر غور کریں، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم ملکی سطح پر اجلاس بلائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مرضی کی حکومتیں بنانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی، ملک میں پارلیمنٹ کمزور ہو چکی ہے اور آئین کے مطابق نظام چلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں قومی اور انصاف پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں عوام مشکلات کا شکار ہیں۔

جے یو آئی سربراہ نے مزید کہا کہ عوام کی بڑی سیاسی قوتوں میں جے یو آئی بھی شامل ہے، جبکہ بلوچستان حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ پارٹی کا اپنا تھا۔