سپریم کورٹ آف پاکستان میں بشام میں چینی انجینئرز پر ہونے والے دہشت گردانہ خودکش حملہ کیس میں نامزد 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق پراسیکیوشن کی درخواست پر اہم سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر نے ملزمان کی قانونی نمائندگی اور حاضری سے متعلق استفسار کرتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا ملزمان باقاعدگی سے ٹرائل کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں؟ اور کیا وہ مقدمے کی پیروی کے لیے اپنے وکیل کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ عدالتِ عظمیٰ نے سخت موقوف اپناتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ملزمان آئندہ سماعت پر ہر صورت اپنے قانونی نمائندے (وکیل) کے ساتھ پیش ہوں، بصورت دیگر ان کی ضمانتیں منسوخ کر دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ پراسیکیوشن نے 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان کی رہائی کیس کے شفاف ٹرائل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔









