2

پشتو موسیقی کے معروف گلوکار گلریز تبسم انتقال کر گئے

پشتو موسیقی اور اسٹیج کے نامور گلوکار حاجی گلریز تبسم طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر فنکار برادری اور سیاسی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم کی نماز جنازہ پشاور کے کاکا خیل ٹاؤن نمبر ون، رنگ روڈ پر ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

حاجی گلریز تبسم کو پشتو موسیقی، فلمی گیتوں اور اسٹیج گلوکاری میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ موسیقی کیلئے وقف کیے رکھا اور اپنی منفرد آواز اور پرفارمنس کے ذریعے مداحوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔

ان کے مشہور گیتوں میں ”زہ پہ برہ زما“ اور ”دا سور سالونا“ شامل ہیں۔ وہ روایتی پشتو ٹپوں اور اسٹیج شوز میں اپنی گلوکاری کے باعث بھی خاصے مقبول تھے۔

نصف صدی تک پشتو موسیقی کی خدمت

حاجی گلریز تبسم گزشتہ کچھ عرصے سے عملی طور پر شوبز کی دنیا سے دور تھے۔ انہوں نے پشتو موسیقی کو مقبول بنانے اور اسے فروغ دینے کیلئے طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔

مرحوم مہابت خان کے فرزند تھے۔ ان کے پسماندگان میں فیض تبسم، بختیار، باروز، جہانزیب، سمیر اور کمال شامل ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا کا اظہارِ افسوس

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے معروف گلوکار گلریز تبسم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر و استقامت عطا کرے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گلریز تبسم کے انتقال سے پشتو موسیقی ایک ممتاز فنکار سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کا خراجِ عقیدت

مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی گلریز تبسم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معروف گلوکار اور صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی کے حامل فنکار کی وفات سے پشتو موسیقی کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

ان کے مطابق گلریز تبسم نے اپنی زندگی کی نصف صدی موسیقی کیلئے وقف کی اور پشتو موسیقی کو مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

گلریز تبسم پشتو موسیقی کا ایک معتبر نام تھے، جن کی آواز، گیت اور فنی خدمات مداحوں اور موسیقی سے وابستہ حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔