31

صنعتکاروں نے نئے نوٹ پلاسٹک کے بنانے کا مطالبہ کر دیا

اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے فیصلے کو صنعت کاروں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔نئے نوٹ پلاسٹک کے بنانے کا مطالبہ کر دیا۔

صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے اس اقدام سے جعلی نوٹوں سے نجات ملے گی،اقتصادی ماہرین کے مطابق بیشتر ممالک میں پلاسٹک کے نوٹ رائج ہیں، کیونکہ ان کی نقل تیار نہیں کی جاسکتی۔

وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ نئے نوٹ آنے سے جعلی نوٹوں کے باعث عوام دھوکہ دہی اور نقصان سے بچ سکیں گے۔

دوسری جانب اقتصادی ماہر ڈاکٹر اکبر زیدی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کاغذ کے بجائے پلاسٹک کی کرنسی استعمال ہو رہی ہے تاکہ جعلی نوٹ تیار نہ کئے جاسکیں، البتہ پانچ ہزار کا نوٹ ختم نہیں ہونا چاہیے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کا کام شروع ہوگیا ہے، امید ہے کہ دو سال میں نئے نوٹ متعارف کرادیے جائیں گے۔