اسلام آباد: ملک بھر سے جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے مکمل خاتمے اور سپلائی چین میں شفافیت لانے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے باضابطہ طور پر 'ریک اینڈ ٹریس سسٹم' پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ پہلے ہی اس نظام کے نفاذ کی منظوری دے چکی ہے۔
نئے نظام کے اہم خدوخাল اور ضوابط
ٹو ڈی بار کوڈ کا نفاذ: ڈریپ کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق ادویات کے پیکٹس پر ٹو ڈی بار کوڈ اور سیریلائزیشن کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں بغیر ٹو ڈی بار کوڈ کے کسی بھی دوا کی درآمد اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اطلاق کا دائرہ کار: یہ نظام انسانی استعمال اور جانوروں کی ادویات دونوں قسم کی دوا ساز کمپنیوں، بائیولوجیکل پراڈکٹس کے تیار کنندگان اور درآمد کنندگان پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
تاریخی حد: مراسلے کے مطابق 9 اکتوبر 2026 کے بعد تیار یا امپورٹ ہونے والی ہر دوا پر منفرد ٹو ڈی ڈیٹا بار کوڈ اور سیریل نمبر درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، البتہ اس تاریخ سے قبل کے تیار شدہ یا امپورٹڈ بیچز اس شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔
صارفین اور مارکیٹ کے لیے فوائد
خودی تصدیق کی سہولت: اس جدید سسٹم کی مدد سے اب عام صارف بھی دوا کے پیکٹ پر موجود ٹو ڈی بار کوڈ کو اسکین کر کے اس کی اصلیت، تیاری کی تاریخ، میعادِ ختم اور سرکاری قیمت کی تصدیق خود کر سکے گا۔
جعلسازی کی روک تھام: ڈریپ حکام کے مطابق اس نظام سے جعلی اور اسمگل شدہ ادویات کے نیٹ ورک کو توڑنے میں مدد ملے گی، اور سپلائی چین مکمل طور پر مانیٹر کی جاسکے گی۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی فارما کمپنیوں اور امپورٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔









