8

شوگر انڈسٹری کو فری مارکیٹ کے اصولوں پر کام کرنے دیا جائے، ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے اور اضافی چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا۔

ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور تقریباً 10 لاکھ ٹن اضافی چینی فوری طور پر برآمد کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ فروری 2026 سے حکومت کو اضافی چینی کی برآمد کے لیے درخواستیں دی جا رہی ہیں، جبکہ اس معاملے پر متعدد اجلاسوں، خطوط اور میڈیا کے ذریعے بھی حکومت کی توجہ دلائی گئی۔

ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے، تاہم باقی 8 لاکھ ٹن اضافی چینی کی برآمد کے لیے بھی جلد فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آئندہ کرشنگ سیزن قریب ہے اور اضافی چینی کے ذخیرے میں کمی نہ کی گئی تو صنعت اور کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق موجودہ چینی کی قیمتیں پیداواری لاگت سے کم ہیں، جس کے باعث شوگر انڈسٹری مالی دباؤ کا شکار ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ شوگر انڈسٹری کو آزاد منڈی کے اصولوں کے مطابق کام کرنے کا موقع دیا جائے اور شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کیا جائے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق کاشتکار تنظیمیں بھی شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ بروقت فیصلے نہ ہونے کی صورت میں آنے والے کرشنگ سیزن کے دوران مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔