4

ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کی نئی شرحوں کا اعلان، بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 30 روپے تک ٹیکس عائد

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک کے اسٹیل سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کی نئی شرحوں کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے ایس آر او 1245 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق درآمدی یا مقامی خام مال سے اسٹیل بار بنانے والے ری رولرز کو اب بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

نوٹیفکیشن کی تفصیلات کے مطابق مقامی ری میلٹیبل اسکریپ استعمال کرنے والے یونٹس پر 20 روپے فی بجلی یونٹ سیلز ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں کام کرنے والے اسٹیل ری رولرز کے لیے بھی سیلز ٹیکس کی شرح 20 روپے فی یونٹ ہوگی۔ اس کے علاوہ سابق فاٹا اور پاٹا کے وہ یونٹس جہاں درآمدی خام مال یا ری میلٹیبل اسکریپ کا استعمال 70 فیصد سے زائد ہوگا، وہاں صرف 5 روپے فی یونٹ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح نئے قائم ہونے والے اور دوبارہ فعال ہونے والے اسٹیل یونٹس کے لیے بھی 5 روپے فی یونٹ کا رعایتی سیلز ٹیکس معیار رکھا گیا ہے جو کہ سہ ماہی درآمدات یا خریداری سے مشروط ہوگا۔

ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اسٹیل میلٹرز، کمپوزٹ یونٹس اور ری رولرز کو بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول ہونے والے سیلز ٹیکس کو اپنے آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس سے ایڈجسٹ کرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔ تاہم کسی بھی اسٹیل مینوفیکچرر کی کیٹیگری میں تبدیلی صرف ایف بی آر کے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم سے تصدیق کے بعد ہی کی جا سکے گی، جبکہ کاروبار کی نوعیت، ملکیت یا لیز تبدیل ہونے کے باوجود اسٹیل کے کاروبار سے منسلک بجلی کا اصل کنکشن برقرار رہے گا اور اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔