5

پاکستان کی عالمی قرض مارکیٹ میں شاندار واپسی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول

پاکستان کی ایک طویل عرصے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں کامیاب واپسی ہوئی ہے، جہاں ملک کی جانب سے جاری کردہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کے بھاری آرڈرز موصول ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت کو ماہرین نے پاکستان کی عالمی مالیاتی ساکھ کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا بڑا اظہار قرار دیا ہے۔

معروف ماہر اقتصادیات خرم حسین نے اپنے ایک انٹرویو میں اس اقدام کو بڑی ڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف تین سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، تاہم جولائی 2023 کے معاشی استحکام کے پروگراموں اور ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف کے ساتھ ای ایف ایف  پروگرام کے نفاذ کے نتیجے میں ملکی معیشت کی عالمی مارکیٹ تک رسائی نہ صرف بحال ہوئی بلکہ اس میں وسعت بھی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آخری مرتبہ 2017 میں اس نوعیت کی بڑی سنگل بانڈ پیشکش کی تھی، تاہم انہوں نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت کے پاس اس بھاری رقم کو پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود ہے، کیونکہ ماضی کی طرح غیر پیداواری اخراجات سے قرض کا بوجھ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہر اقتصادیات عمار حبیب خان کا کہنا ہے کہ اس تمام عمل کا اصل مقصد محض رقم کا حصول نہیں بلکہ پاکستان کی عالمی کریڈیبلٹی کی بحالی ہے، جس سے مستقبل میں دیگر ذرائع سے بھی قرض یا سرمایہ کاری کے حصول کے راستے کھلیں گے۔ ادھر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا سنگل بانڈ اجرا ہے، جو کسی ہنگامی اقدام کے بجائے طویل مدتی قرضہ مینجمنٹ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین بار بہتری آ چکی ہے جبکہ اس بانڈ کے لیے ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ سے متنوع سرمایہ کاروں نے دلچسپی دکھائی ہے۔ حکومت کا مقصد مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ کم کرنا ہے، اور مستقبل میں فنانسنگ کے ذرائع کو وسیع کرنے کے لیے سکوک، پانڈا بانڈز اور روپیہ ڈینامینیٹڈ بانڈز کے اجرا پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔