پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث جہاں عوام متبادل ذرائع کی جانب راغب ہو رہے ہیں، وہیں الیکٹرک بائیک مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ الیکٹرک بائیک اسمبلرز نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 5 ہزار روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کچھ کمپنیوں نے نئی قیمتوں کا اطلاق 3 اپریل سے کر دیا ہے جبکہ دیگر 10 اپریل سے اس پر عملدرآمد کریں گی۔ اضافے کے بعد مختلف بیٹری رینج اور موٹرز کے ساتھ الیکٹرک بائیکس کی قیمتیں اب 1 لاکھ 25 ہزار سے لے کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
اسمبلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سمندری مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کراچی بندرگاہ سے فیکٹریوں تک درآمدی پرزوں کی ترسیل میں اضافہ، اور ڈیزل کی مہنگی قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافہ ہے۔
ایک کمپنی نے ڈیلرز کو لکھے گئے خط میں بتایا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی اپنے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث صارفین تیزی سے الیکٹرک بائیکس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور پیٹرول مزید مہنگا ہوا تو مستقبل میں الیکٹرک بائیکس مارکیٹ پر حاوی ہو سکتی ہیں۔
تاہم صارفین کو ابھی بھی کم ری سیل ویلیو اور سڑکوں کے ناقص انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود کم خرچ اور ماحول دوست ہونے کی وجہ سے یہ بائیکس مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔









